معرفت پانا : میرمحمد علی تالپور- ترجمہ: لطیف بلیدی


یقینا کانگریس کمیٹی کے اجلاسوں کی وجہ سے بلوچستان آزاد ہونے والا نہیں ہے۔ بلوچ کے لئے اس اجلاس کا واحد مثبت نتیجہ یہ ہے کہ ان کی حالت زار پر روشنی ڈالی گئی اور ممکن ہے کہ اس سے دیگر مغربی ممالک کی بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر زیادہ توجہ دینے کی حوصلہ افزائی ہو

پیپلز پارٹی بلوچستان کے صدر صادق عمرانی نے جب بلوچستان اسمبلی کے فلور پر انٹیلی جنس ایجنسیوں کی طرف سے کراچی میں براہمدغ بگٹی کی بہن اوربھتیجی کے بزدلانہ قتل کی مذمت کرتے ہوئے ایک چونکانے والا انکشاف کیا تھا کہ وہ اور دو دیگر وزرائ، یونس ملازئی اور ظفر زہری نے ، نومبر 2011 میں منگوچر م کے قریب شاہراہ پر سڑک کے کنارے فرنٹیئر کور (FC) کو دو مردوں کے آنکھوں پر پٹی باندھے اور ہتھکڑی لگائے دیکھا۔ انہوں نے کہا کہ FC والوں نے ان کو گولی مار کر ہلاک کردیااور اگلے دن ان کی لاشیں اسی علاقے سے پائی گئےں۔ یکساں طور پر شدید حیرت کا باعث اس واقعے پر عمرانی کی چار ماہ کی خاموشی ہے۔

اس دہلا دینے والے انکشاف کی طرح بلوچ کے خلاف ہونیوالے دیگر تمام معلوم مظالم پر کسی نے کان نہیں دھرااور کسی کا بھی دھیان نہیں گیا۔ سب کیلئے بلوچ کےخلاف ہونیوالے مظالم کا مسئلہ ایک معمول کی بات کے طور پر قبول کیا جاتا ہے اور یہاں تک کہ براہمدغ کی بہن اور بھتیجی کی غیرانسانی اور لرزہ خیز قتل پر بھی سول سوسائٹی یا میڈیا میں انتہائی کم ردعمل دیکھنے میں آیا۔

حساب برابر کرنے کے لئے عورتوں کا قتل مقتدر قوتوں کی پست ترین حد ہے جوکہ یہاں کی اسٹابلشمنٹ نے عبور کرلی ہے۔ بانک زامر بگٹی صرف براہمدغ بگٹی کی بہن نہیں تھیںبلکہ وہ ان تمام غیور اور باضمیر بلوچوں کی بہن تھیں۔ یہ وہ بے حرمتی اور زخم ہے جسے تمام بلوچ ہمیشہ یاد رکھیں گے۔

ایک قومی اخبار کی خبر کے مطابق یہ قتل براہمدغ بگٹی کے لئے ایک پیغام تھا کہ وہ پاکستان کے خلاف مزاحمت سے باز آجائےں۔ بظاہر اسٹابلشمنٹ اس حقیقت کو سمجھنے میں ناکام ہوچکی ہے کہ انہوں نے اپنے دادا سردار اکبر بگٹی کے قتل کی شکل میں دیے گئے پیغام کی پرواہ نہیں کی تو وہ کیونکر ان رونگھٹے کھڑے کرنیوالے قتل پر توجہ دےں گے اور مزاحمت ترک کردیں گے۔

ریاست اور اس کے نمائندے یہ بھول جاتے ہیں کہ انہوں نے ہی پرامن بلوچ کے خلاف جنگ کا آغاز کیااور بلوچ تو صرف اپنے دفاع اور اپنے حقوق کا تحفظ کرنے کے حق کو بروئے کار لارہے ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ مظالم اور نا انصافیوں کےخلاف بلوچ کی مزاحمت کو ایک جرم سمجھا جاتا ہے جبکہ ریاست کے مظالم قانونی تصور کیے جاتے ہیں۔

وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک نے قومی اسمبلی میں کہا ہے کہ حکومت نے بختیار خان ڈمکی کے خاندان کے قتل کا نوٹس لے لیا ہے۔ اسمبلی کے ارکان کی طرف سے انکی سرزنش کی گئی جب انہوں نے ریمارکس دیتے ہوئے اس سانحہ کو حالیہ حملوں میں ایف سی اہلکاروں کی ہلاکت سے جوڑنے کی کوشش کی۔ اتفاق سے ڈومکی خاندان کے قتل کے بعد عسکریت پسند گروپوں کی جانب سے بلوچستان میں ایف سی اہلکاروں پر حملوں شدت آئی۔ مارگٹ کے علاقے میں ایف سی اہلکاروں کے قتل کے بعد بلوچ لبریشن آرمی (BLA) کے ترجمان نے کہا کہ یہ حملے ان بلوچ خواتین کے قتل کا ردعمل تھے۔

بلوچ تو یہی سمجھتے ہیں کہ رحمن ملک کا نوٹس لینا بالکل بیکار اور بے معنی ہے لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ کسی اور نے بھی بلوچستان کی صورتحال کا نوٹس لیا ہے۔ جی ہاں، امریکی ایوان کی کمیٹی برائے خارجہ امور نے اسکا نوٹس لیا ہے اور بلوچستان پرخصوصی بحث کےلئے کانگریس کی سماعت منعقد کی ہے۔

پاکستان اور امریکہ کے درمیان بگڑتے ہوئے باہمی تعلقات کے دوران یہ ایک اہم پیشرفت ہے۔ ایوان نمائندگان کی یہ طاقتور کمیٹی امریکہ کی غیرملکی امداد کے پروگراموں کی نگرانی کرتی ہے اور ماہرین کا خیال ہے کہ یہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر پاکستان کے لئے امریکی امداد کو خطرے میں ڈال سکتا ہیںاور ان خدشات پر پاکستان سخت پریشان ہے۔ یہ اجلاس 15 جنوری کو بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان وکٹوریہ نیولینڈ کی تشویش کے اظہار کے بعد منعقد کی گئی۔ دنیا آہستہ آہستہ بلوچستان میں مظالم پر بیدار ہورہی ہے۔

ریپبلکن کانگریس مین ڈانا روراباکر، جنھوں نے حال ہی میں کانگریس مین لوئی گومارٹ کیساتھ ملکر ایک مشترکہ مضمون لکھا جس میں ایک آزاد بلوچستان کی حمایت کا اظہار کیاگیا تھا، اس سماعت کی صدارت کی۔ اپنے حصے میں انہوں نے لکھا تھا: ”شاید ہمیں پاکستان میں ایک بلوچستان تراشنے کےلئے حمایت پر غورکرنا چاہیے تاکہ وہاں (پاکستان میں) بنیاد پرستوں کی طاقت کم کی جاسکے۔“

کمیٹی کے اجلاس کے موقع پر اپنے افتتاحی کلمات میں، روراباکر صاحب نے کہا کہ بلوچستان ایک ہنگامہ خیز سرزمین ہے ،اورا نسانی حقوق کی خلاف ورزیوں نے اسکی شکل بگاڑ کررکھ دی ہے، ”ان حکومتوں کی جانب سے جو کہ امریکی اقدار کے خلاف ہیں ۔“ انہوں نے پاکستان کی تخلیق کا تاریخی خاکہ پیش کیا اور بلوچستان کی شکایات ساتھ ساتھ قدرتی وسائل پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ صوبے کی دولت غالب پنجابی اشرافیہ لے جا رہی ہے۔

ہیومن رائٹس واچ کے پاکستان کے ڈائریکٹر علی دیان حسن نے اپنے پیش کردہ ریمارکس میں کہا ہے کہ ہیومن رائٹس واچ کی طرف سے درج کردہ دستاویزی کیس یہ بتاتے ہےں کہ پاکستان کی سیکورٹی فورسز اور اس کی انٹیلی جنس ایجنسیاں بلوچ نسل کے لوگوں کی گمشدگی میں ملوث رہے ہیں۔ انہوں نے صوبے میں فوج کے کردار کو سفاکانہ اورقابضا نہ قرار دیا ۔

اپنے گواہی نامے میں، تجزیہ کار رالف پیٹرس، جنہوں نے اپنے جون 2006 کے مضمون ’خونی سرحدیں: ایک بہتر مشرق وسطیٰ کیسا دکھے گا‘ میں آزاد بلوچستان کا ایک نقشہ شائع کیا تھا،پاکستان کو دہشت گردی کا حامی قرار دیا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے ایڈووکیسی ڈائریکٹر ٹی کمار نے اپنی پیش کردہ گواہی میں امریکہ پر زور دیا کہ وہ بلوچستان میں تمام پاکستانی فوجی یونٹوں پربلا کسی رعایت کے لی ہائی (Leahy) ترمیم کا اطلاق کرے۔ لی ہائی قانون کسی بھی غیر ملکی فوجی یونٹ کو امریکی فوجی امداد کی ممانعت کرتا ہے جسے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے پر سزا سے بریت حاصل ہو۔

ڈاکٹر ایم حسین بُر ، جوکہ سماعت پر ایک بلوچ وکیل اور گواہ تھے، بلوچ ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے میں تقریباً 4000 لوگوں کو 2001 کے بعد سے غائب کیاگیا ہے۔ انہوں نے اپنے پیش کردہ ریمارکس میں ، ”اگر پاکستان یا ایران یا دونوں کا اپنے ہی تئیں انہدام کی صورت میں“امریکہ پر زور دیا کہ وہ ایک آزاد بلوچستان کے قیام کےلئے مدد دے ۔

قدرتی طور پر اس اجلاس پریہاں کی دفتر خارجہ اور سینیٹ کی طرف سے ایک منفی ردعمل سامنے آیا اور اسکی مذمت کرتے ہوئے اسے ’براہ راست مداخلت‘ قراردیا گیا۔ تمام منقسم سینیٹروں نے اس اجلاس کو پاکستان کی خود مختاری کے لئے ایک توہین گردانا اور شدید غصے کا اظہار کیا۔ یہ صرف یہی دکھاتی ہے کہ کس طرح ان کی ترجیحات نامناسب ہیں، کیونکہ وہاں ان میں سے بمشکل ہی کسی کی سرسراہٹ سننے میں آتی ہے جب بلوچ کے خلاف مظالم ڈھائے جارہے ہوں، لیکن اگر کوئی ان مظالم پر روشنی ڈالے تو اس پر خفگی کا اظہار کرتے ہیں۔

یقینا کانگریس کمیٹی کے اجلاسوں کی وجہ سے بلوچستان آزاد ہونے والا نہیں ہے۔ بلوچ کے لئے اس اجلاس کا واحد مثبت نتیجہ یہ ہے کہ ان کی حالت زار پر روشنی ڈالی گئی اور ممکن ہے کہ اس سے دیگر مغربی ممالک کی بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر زیادہ توجہ دینے کی حوصلہ افزائی ہو۔ بلوچستان صرف ریاست کے مظالم کی وجہ سے نہیں بلکہ بہادر اور انتھک بلوچ مزاحمت کی وجہ سے آہستہ آہستہ دنیا کے منظر پر ابھر رہا ہے۔

یہ اجلاس بلوچ کےلئے بھی کہ بھرپور منفی نتائج لایا ہے؛ دنیا میں کچھ لوگ اپنا چہرہ مسخ کرنے کےلئے اپنی ناک تک کاٹنے سے نہیںجھجکیں گے۔ پاکستانی اسٹابلشمنٹ اسی جگر سوز زمرے میں آتا ہے، اور مجھے ڈر ہے کہ صرف امریکہ کو یہ دکھانے کےلئے کہ اسے بالکل کوئی پرواہ نہیں ہے کہ اس کی کمیٹیاں کیا کہتی یا کرتی ہیں، وہ بلوچ کے خلاف مظالم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں بے تحاشہ اضافہ کردےگا۔

اس سے واقعی کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ اگر امریکہ یا رحمن ملک کو بلوچستان میں زیادتیوں پر کوئی معرفت ہو؛ جو بات حقیقتاًاہمیت رکھتی ہے وہ یہ ہے کہ خود بلوچ نے اپنے خلاف ہونیوالی نا انصافیوں پرمعرفت پالیا ہے اور اپنے تمام وسائل اور توانائیاں یکجاہ کرکے اسکے خلاف مزاحمت کا فیصلہ کر لیا ہے اور بالآخر یہی چیزتوازن کو ان کے حق میں جھکائے گا۔

مصنف کا بلوچ حقوق کی تحریک سے 1970 عشرے کے ابتداءسے ایک تعلق ہے۔
mmatalpur@gmail.com
بشکریہ: ڈیلی ٹائمز ، اتوار ، 12 فروری 2012

via [Daily Times]

To download in PDF Maarifat.Pana_Mir Mohammad Ali Talpur

Leave a comment

Filed under Mir Mohammad Ali Talpur, Write-up

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s