آزادی مانگنے کی سزا موت


وسیم بلوچ

Majeed Baloch

Shaheed Majeed Baloch

بلوچستان میں آزادی پسندوں کی بڑھتی ہوئی سیاسی طاقت کو توڑنے کیلئے پاکستان کے انٹیلی جنس اداروں اور آرمی کی کارروائیاں بربریت کی تمام معروف حدیں پھلانگ چکی ہیں لیکن صورتحال قابو میں آنے کی بجائے پاکستان کے حق میں بد سے بدتر ہوتی جارہی ہے اور آزادی پسند تحریک کا نیا ابھار دیکھنے میں آرہا ہے۔پاکستان میں انسانی حقوق کے اداروں اور سول سوسائٹی کی مکمل خاموشی نے ریاستی اداروں کو بلوچستان میں کھل کھیلنے کی جو آزادی فراہم کی ہے اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن (آزاد) کے نوعمر حامیوں کے اغوائ، تشدد اور قتل کیے جانے کے واقعات گزشتہ ہفتہ کے دوران بھی جاری رہے۔


خضدار میں بی ایس او کے ایک تیرہ سالہ حامی بچے مجید بلوچ کو اغواءکے بعد ایک ہفتہ تک تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور پھر قتل کر کے لاش سرراہ پھینک دی گئی۔ خضدار میں ہی بی ایس او کے دو مزید حامیوں کو ان کے گھر سے اٹھا لیا گیا جبکہ گوادر میں ایک اور تربت میں بی ایس او کے 3حامیوں کے اغواءکے واقعات رپورٹ ہوئے۔

حالیہ واقعات کا ایک نمایاں پہلو یہ ہے کہ بی ایس او اور آزادی پسند سیاسی تنظیموں کی قیادت اور تمام عہدیدار زیر زمین جا چکے ہیں اور اب ریاستی ادارے ان تنظیموں کے حامیوں کو نشانہ بنارہے ہیں۔ غالباًپاکستان کے اندر انسانی حقوق کے کارکنوں کی بلوچستان میں جاری ریاستی مظالم پر مکمل خاموشی کے سبب ایمنسٹی انٹرنیشنل کو صورتحال کی سینگینی کا ادراک کرنے میں کئی ماہ لگے۔ 26اکتوبر کو ایمنسٹی نے باضابطہ طور پر پاکستان کی حکومت سے اپیل کی کہ وہ بلوچستان میں گزشتہ 4 ماہ کے دوران 40 سے زائد سیاسی کارکنوں کے قتل اور ان پر تشدد کے واقعات کی تحقیقات کرائے۔ ایمنسٹی کے ایشیاءپیسفک کے ڈائریکٹر سام ظریفی نے کہا کہ اغوائ، تشدد اور قتل کے واقعات میں بلوچ سیاسی کارکن نشانہ بن رہے ہیں۔ پاکستان کی حکومت کو یہ ثابت کرنا چاہئے کہ وہ پاکستان کی فوج، فرنٹیرکور اور انٹیلی جنس اداروں سے پوچھ گچھ کر سکتی ہے اور ضرور کرے گی۔ سام ظریفی نے اپیل کی کہ پاکستان کی حکومت بلوچستان میں ہونے والے مظالم پر انصاف فراہم کرنے کیلئے فوری اقدامات کرے۔

ایمنسٹی کی اس اپیل کا پاکستان کی بے حس وفاقی حکومت پر یہ اثر ہوا ہے کہ وزیرداخلہ رحمن ملک بلوچستان میں ٹارگٹ کلنگ کے وجود سے ہی مکر گئے۔ بدھ 27 اکتوبر کو انہوں نے دعویٰ کیا کہ ”بلوچستان میں اب ٹارگٹ کلنگ نہیں ہورہی“۔ جس روز انہوں نے یہ دعویٰ کیا اس روز بھی خضدار میں تیرہ سالہ مجید بلوچ شہید کے گھر پر تعزیت کرنے والوں کا ہجوم موجود تھا۔ مجید بلوچ شہید کی والدہ تعزیت کیلئے آنے والی خواتین کو بتارہی تھیں کہ ان کے بیٹے کو پاکستان کی فوجی انٹیلی جنس ایجنسی کے اہل کاروں نے آٹھ روز پہلے اغواءکیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ مجید بلوچ کی بہت چھوٹی عمر میں شہادت پر دکھ کے باوجود انہیں فخر ہے کہ ان کا فرزند وطن کی آزادی کیلئے مارا گیا۔

رحمن ملک نے ایمنسٹی انٹرنیشنل کے بیان پر یہ احمقانہ تبصرہ بھی کیا کہ ”باہر بیٹھ کر رپورٹ بنانا بہت آسان ہے لیکن ان واقعات کے پیچھے موجود حقیقت بھی دیکھنی چاہئے۔ یہ رپورٹ درست نہیں۔ فوج اور ایف سی پر حملے کرنے والے عام شہری نہیں ہو سکتے۔ پولیس جوابی کارروائی کرتی ہے، کوئی ریاستی ایجنسی کسی کو ٹارگٹ کر کے ہلاک نہیں کرتی۔“ بلوچستان میں ٹارگٹ کلنگ ختم ہونے کے بچگانہ دعویٰ کی طرح رحمن ملک کے اس دعویٰ میں بھی کوئی صداقت نہیں کہ ریاستی ایجنسیاں کسی کو ٹارگٹ کر کے قتل نہیں کر رہیں کیونکہ گزشتہ 4ماہ کے دوران 40 سے زائد سیاسی کارکنوں کے اغواءکے ہر واقعہ کے فوراً بعد ان کے لواحقین نے پاکستان کی ریاستی ایجنسیوں کے اہلکاروں پر ہی ان کے اغواءکے الزام لگائے۔ تقریباً تمام اغواءشدگان کو ایک ہی انداز میں اٹھایا گیا۔ ایک ہی انداز میں شدید جسمانی تشدد کا نشانہ بنا کر ان سے معلومات اگلوانے کی کوششیں کی گئیں اور تقریباً سبھی کو مخصوص انداز میں سروں میں گولیاں مار کر شہید کیا گیا۔ سبھی شہداءکے لواحقین بضد ہیں کہ ان کے پیاروں کے اغواءاور قتل کے بہیمانہ واقعات میں پاکستان کی فوجی انٹیلی جنس ایجنسی کے اہل کار ملوث ہیں۔ رحمن ملک نے ایمنسٹی کی رپورٹ کو باہر بیٹھ کر بنائی گئی رپورٹ قرار دیتے ہوئے بے شرمی کے ساتھ یہ حقیقت چھپالی کہ پاکستان کے فوجی ادارے انسانی حقوق کے بین الاقوامی اداروں اور مقامی صحافیوں کی حقائق تک جسمانی طور پر رسائی کو عملاً ناممکن بنائے ہوئے ہیں۔ مقامی صحافیوں کو ہراساں کیا جانا ایک معمول بن چکا ہے اور فوج کی کارروائیوں کے دوران مقامی میڈیا کو دور رکھنے کا خصوصی بندوبست کیا جاتا ہے ۔اس کے باوجود جو اطلاعات بلوچستان سے نکل کر پاکستان سے باہر جاتی ہیں ان سے صورتحال کی سنگینی کا محض سرسری اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ ایمنسٹی کی رپورٹ بھی دراصل صورتحال کی حقیقی سنگینی کا مکمل احاطہ نہیں کرتی۔

حقیقت یہ ہے کہ بلوچستان کے سبھی بلوچ آبادی والے علاقوں میں عام شہریوں کو آزادی پسندوں کیساتھ تعلق رکھنے کے ”جرم“ کی ہولناک سزائیں دی جارہی ہیں۔ ستمبر کے پہلے ہفتے پاکستان کی حکومت نے اعلانیہ فوجی کارروائیوں کا آغاز کیا تھا ۔تب سے اب تک درجنوں افراد کے گھر محض اس بناءپر مسمار کر دیئے گئے کہ ان کے گھرانوں کا کوئی نہ کوئی فرد آزادی پسند تنظیموں سے وابستہ ہے۔ کئی افراد کو محض اس لیے اغواءکیا گیا کہ ان کے قریبی عزیز پر امن شہری زندگی چھوڑ کر ”سرمچار“ بن چکے ہیں اور پہاڑوں میں چلے گئے ہیں۔ کئی افراد کو محض اس لیے تشدد کا نشانہ بنایا گیا کہ ان کے گھروں یا دکانوں پر آزاد بلوچستان کا پرچم لہراتا دیکھا گیا تھا۔ رحمن ملک نے ایمنسٹی کی رپورٹ کو جھٹلاتے ہوئے ڈھٹائی کے ساتھ دعویٰ کیا کہ کوئی بھی عام شہری فوج اور ایف سی پر حملے نہیں کر سکتا۔ ”پولیس“ صرف جوابی کارروائی کرتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایمنسٹی کی رپورٹ میں گزشتہ 4ماہ کے دوران جن 40سے زائد سیاسی کارکنوں کے اغواءاور قتل پر احتجاج کیا گیا ان میں سے کوئی ایک بھی مسلح باغی تنظیموں کا رکن نہیں تھا۔ سب کے سب سیاسی تنظیموں کے عام حامی تھے۔

گزشتہ 4ماہ کے دوران آزادی پسند تنظیموں کی جانب سے پاکستان آرمی، پولیس اور سٹریٹیجک ٹارگٹس پر حملے تسلسل کیساتھ جاری رہے، ہر حملہ کے بعد باغی بلوچ حفاظت کے ساتھ فرار ہوئے اور کسی ایک بھی واقعہ میں انہیں ”پولیس“ کی اس جوابی کارروائی کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ جس کا رحمن ملک نے دعویٰ کیا ہے۔ اس عرصہ کے دوران فوج، ایف سی اور ایف سی کے ماتحت کام کرنے والی سویلین پولیس نے کسی ایک بھی آزادی پسند مسلح باغی کو گرفتار نہیں کیا۔ البتہ ان تمام واقعات کے بعد ”جوابی کارروائی“ کے طور پر ان سیاسی کارکنوں کو نشانہ بنایا گیا جو معمول کے مطابق اپنے گھروں میں رہ رہے تھے۔ ڈیرہ بگٹی اور مشکے میں سرمچاروں کی تلاش کیلئے بہت بڑے آپریشن کر کے بہت سے گھر تو مسمار کیے گئے لیکن کسی ایک بھی سرمچار کو گرفتار نہیں کیا جاسکا۔

عام بلوچ شہریوں کو ہراساں کر کے آزادی پسند تنظیموں سے دور رکھنے کی کوشش کا نتیجہ عملاً یہ نکلا ہے کہ عام شہریوں میں ریاستی اداروں کے خلاف نفرت اور بغاوت کے جذبات شدید تر ہوتے جارہے ہیں۔ ان جذبات کا اظہار لوگوں کے گھروں اور دکانوں پر اچانک آویزاں کر دیئے جانے والے سہ رنگے جھنڈوں سے ہوتا ہے۔ عام شہری آزادی پسندوں کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کیلئے یہ جھنڈے گھروں پر لہراتے ہیں اور جب ایف سی کے اہل کار ان کے علاقہ میں آتے ہیں تو جھنڈے اتار کر رکھ دیئے جاتے ہیں۔ گزشتہ دنوں تربت میں ایک نو عمر لڑکے نے تربت کے قدیم قلعہ کی عمارت پر آزاد بلوچستان کا جھنڈا لہرا دیا تو ایف سی کے سینکڑوں مسلح اہلکاروں نے قلعہ کو یوں گھیرے میں لے لیا جیسے وہاں سرمچاروں کا کوئی دستہ چھپا ہوا ہو۔ جھنڈا اتارنے کے ساتھ انہوں نے جھنڈا لہرانے والے لڑکے کو بھی گرفتار کر لیا اور مار پیٹ کرتے ہوئے ساتھ لے گئے۔ اس واقعہ کے بعد ایف سی کے اہلکاروں کے مسلح جتھوں نے شہر کے مختلف علاقوں میں چھاپے مار کر کئی گھروں پر لہرائے ہوئے جھنڈے اتروائے اور گھروں کے مکینوں کو تشدد کا نشانہ بنایا۔

بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن (آزاد) کے کارکنوں کے اغواءکے مسلسل واقعات نے اس تنظیم کی قیادت کو روپوش ہونے پر تو مجبور کر دیا ہے لیکن عملاً تنظیم کی مقبولیت گزشتہ دو ماہ کے دوران مزید بڑھ گئی ہے۔ ریاستی اداروں کی جانب سے حالیہ کریک ڈاﺅن کے دوران بعض وفاق پرست بلوچ سیاسی تنظیموں کی جانب سے اپنی سیاسی سرگرمیوں میں اضافہ کی کوششیں دیکھنے میں آئیں لیکن ان تنظیموں کی قیادت سکیورٹی مسائل کی توجہ سے کھل کر عوامی سطح پر سیاسی سرگرمیاں کرنے کی پوزیشن میں دکھائی نہیں دیتی۔ اس کے برعکس آزادی پسند تنظیموں کی سرگرمیاں قیادت کی روپوشی کے باوجود کسی نہ کسی طرح جاری ہیں۔ بلوچستان نیشنل موومنٹ نے گزشتہ دنوں سخت کشیدگی کے باوجود اپنی قومی کانگریس شیڈول کے مطابق منعقد کی اور پارٹی انتخابات کروائے۔ کانگرس کے اختتام پر جاری کئے گئے بیان میں سوشلزم کو آزاد بلوچستان کا مستقبل قرار دیتے ہوئے عالمگیر سوشلسٹ معاشرہ کے قیام کیلئے جدوجہد جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا۔

گزشتہ ہفتہ کے دوران ہی بلوچستان کے جلاوطن آزادی پسند راہنما حیربیار مری نے بلوچستان کے عالمی نمائندہ کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھال لیں۔ اس حیثیت میں وہ عالمی اداروں اور حکومتوں کو بلوچستان میں جاری ریاستی جبر اور بلوچ عوام کی خواہشات سے آگاہ کرنے کیلئے کام کریں گے۔ حیر بیار مری گزشتہ کئی سال سے لندن میں مقیم ہیں۔ گزشتہ دنوں انہوں نے باقاعدہ سیاسی پناہ کیلئے جو درخواست دائر کی تھی وہ مسترد کی جاچکی ہے۔ تاہم ان کے طویل عرصہ تک برطانیہ میں مقیم رہنے میں کوئی مسئلہ درپیش نہیں۔

خضدار میں 24اکتوبر کو تیرہ سالہ بچے مجید بلوچ کی مسخ شدہ لاش ملنے کے بعد آزادی پسند مسلح تنظیموں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا۔ بی ایل اے سرمچاروں نے کوئٹہ میں پولیس کے ایک دستہ پر حملہ کر کے دو اہلکار ہلاک اور 7زخمی کر دیئے، اس سے دو روز قبل بی ایل اے نے کوہلو میں حملہ کر کے 3 آباد کاروں کو قتل کر دیا تھا۔

بلوچستان میں جاری خونریزی کا سب سے المناک پہلو پاکستان کے دیگر علاقوں میں انسانی حقوق کے علمبرداروں اور جمہوریت پسندی کے دعویدار سیاسی کارکنوں کی مجرمانہ خاموشی ہے۔بی بی سی اور بین الاقوامی پرنٹ میڈیا کے ذریعہ حالات سے آگاہی کے باوجود مذکورہ حلقوں کی پراسرار خاموشی کو دیکھ کر سندھ کے ایک قوم پرست سیاسی کارکن نے تبصرہ کیا: ”پاکستان کی اسٹبلشمنٹ بلوچستان میں وہی کچھ کررہی ہے جو بنگلہ دیش کی آزادی سے پہلے بنگلہ عوام کیساتھ کیا گیا تھا اور پاکستان کے عوام کا رویہ بھی عین وہی ہے جو 16دسمبر 1971 تک تھا۔ یعنی مکمل خاموشی!۔“

پاکستان کی فوجی اسٹبلشمنٹ کیلئے امریکہ میں دہشت گردی کے ایک اور منصوبہ میں ایک پاکستانی نژاد امریکی شہری کی گرفتاری یقینا ایک پریشان کن صورتحال کا آغاز ثابت ہو سکتی ہے۔ ورجینیا سٹیٹ میں مقیم فاروق احمد پر الزام ہے کہ وہ زیر زمین لوکل ٹرین سسٹم پر حملہ کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔ قبل ازیں 2008ءمیں ایسا ہی حملہ لندن میں کیا گیا تھا۔ فاروق احمد کی گرفتاری کے بعد وائٹ ہاﺅس کے ترجمان نے بتایا کہ وہ سات ماہ سے سب وے ٹرین سسٹم کی نگرانی کررہا تھا اور بم دھماکوں کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔ امریکہ کے متعلقہ ادارے طویل عرصہ سے اس کی نگرانی کر رہے تھے۔ وہ اپریل 2010ءسے اکتوبر 2010ءتک پاکستان میں موجود القاعدہ کارکنوں کے ساتھ رابطے میں رہا۔ پاکستان کی فوجی قیادت کیلئے یہ گرفتاری اس لیے پریشان کن ہے کہ امریکی حکام اعلیٰ ترین سطح پر پہلے ہی پاکستان کی فوجی قیادت کو خبردار کر چکے ہیں کہ آئندہ کوئی بھی پاکستانی امریکہ میں دہشت گردی کی کسی سازش میں ملوث پایا گیا تو اس کے سنگین نتائج نکلیں گے۔

حال ہی میں شائع ہونے والی سنیئر امریکی صحافی باب وڈ ورڈز کی کتاب ”اوباماز وارز“ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ نیویارک میں ٹائم سکوائر بم حملہ کے بعد سی آئی اے کے سربراہ لیویس پینٹا نے پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل کیانی کو بتایا تھا کہ اگر ٹائم سکوائر لے جایا جانے والا بم پھٹ جاتا تو شاید امریکی صدر کو وہ کرنا پڑتا جو پاکستانیوں کو پسند نہ ہوتا۔ اس بم حملے میں ملوث شخص بھی پاکستانی تھا اور وہ دھماکہ خیز مواد سے بھری گاڑی ٹائم سکوائر لانے کے بعد بم ڈیٹونیٹ کرنے سے پہلے زخمی حالت میں پکڑا گیا تھا۔ پاکستانی فوجی قیادت کی نئی پریشانیوں کا سلسلہ ورجینیا میں ایک پاکستانی کی گرفتاری پر ہی ختم نہیں ہوتا۔ برطانیہ کی انٹیلی جنس ایجنسی ایم آئی سکس کے سربراہ جون سووئیرز نے بھی لندن میں ایک سرکاری اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ مغرب پر مزید دہشت گردانہ حملے ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ القاعدہ کے پاکستان، افغانستان کے علاوہ یمن اور شمالی افریقہ میں موجود کارکن بھی یہ حملے کر سکتے ہیں۔ گزشتہ ہفتہ ہی القاعدہ کے مبینہ طور پر پاکستان میں چھپے ہوئے لیڈر اسامہ بن لادن نے اپنے ویڈیو پیغام میں فرانس کے شہریوں کے قتل کی حمایت کی تھی۔ اس پیغام میں بن لادن نے کہا تھا کہ اگر فرانس کی حکومت مسلمان خواتین کے نقاب پر پابندی لگاسکتی ہے تو ہم بھی فرانسیسی شہریوں کو قتل کر سکتے ہیں۔ بن لادن کی یہ ویڈیو ٹیپ شمالی افریقہ میں تین فرنچ شہریوں کے القاعدہ کے ہاتھوں اغواءکے بعد سامنے آئی۔

گزشتہ ہفتہ کے دوران سامنے آنے والی اطلاعات میں ایک اہم اطلاع یہ بھی تھی کہ روس نے افغانستان کی جنگ میں نیٹو افواج کے ساتھ عملی شمولیت کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس فیصلہ کا اعلان نومبر میں لزبن میں ہونے والے نیٹو سربراہ اجلاس کے موقع پر متوقع ہے۔ روس کے صدر دِمٹری میدیدوف اس اجلاس میں شرکت کریں گے۔

پاکستان کی ریاست کو درپیش بحران کی سنگینی کا اندازہ فوجی اسٹبلشمنٹ کے حامی تصور کیے جانے والے سیاستدان عمران خان کے اس بیان سے بھی کیا جاسکتا ہے کہ اگر آئندہ چھ ماہ کے دوران ”نظام“ تبدیل نہ ہوا تو ملک بیٹھ جائے گا۔ 28اکتوبر کو جنوبی پنجاب کے قصبہ گجرات میں ایک جلسہ کے دوران عمران خان نے خبردار کیا کہ اگر شمالی وزیرستان میں فوجی کارروائی کی گئی تو پاکستان میں مزید انارکی پھیلے گی۔ فوج کے ساتھ قریبی تعلق رکھنے والے سیاستدان شمالی وزیرستان میں متوقع فوجی کارروائی کے حوالہ سے تشویش میں مبتلا ہیں لیکن پاکستان کی فوجی قیادت ہنوز پراعتماد ہے کہ ”فوجی کارروائی بھی ہو جائے گی اور تبدیل بھی کچھ نہیں ہوگا۔“ ایک اندازے کے مطابق شمالی وزیرستان میں چھ ہزار غیر ملکی دہشت گرد موجود ہیں جبکہ افغان طالبان کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔

شمالی وزیرستان میں پاکستان آرمی کی کسی بھی بڑی فوجی کارروائی کا ردعمل پاکستان خصوصاً پنجاب کے شہری علاقوں میں دہشت گرد حملوں کی صورت میں سامنے آنا غیر معمولی نہیں ہوگا لیکن پاکستان آرمی کی قیادت کے پاس اس صورتحال سے نکلنے کا کوئی عملی راستہ موجود نہیں۔

Leave a comment

Filed under Interviews and Articles

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s