پاکستان ۔۔۔۔۔ ٹارچر


چھبیس جون کے دن دنیا بھر میں‌جسمانی ذہنی و نفسیاتی اذیتیں سہنے والوں سے اظہار یکجہتی کے طور پر “اگینسٹ ٹارچرڈے“ منایا چارہا ہے جس کا بنیادی مقصد  ریاستی، نسلی، لسانی، مذہبی، اور فرقہ ورانہ بنیادوں‌پر لوگوں‌کو اذیتیں‌دینے والوں‌کے خلاف رائے عامہ کو بیدار کرکے لوگوں میں شعورآگہی پیدا کرنا ہے۔

`

عزیز ساتھیو! اگر “ٹارچرڈے“ کی مناسبت سے صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو پاکستان جیسی ریاست میں‌لوگوں کو اذیتیں‌دے کر ذہنی اور جسمانی طور پر مفلوج کرنا عام سی بات ہوگئی ہے۔ یوں تو پاکستان میں‌انسانی حقوق کے حوالے سے مجموعی صورتحال انتہائی خراب ہے لیکن عرصہ چند سالوں‌سے بلوچستان میں ریاست کی طرف سے “ٹارچر“ معمول بن گیا ہے جس میں نت نئے طریقے متعارف کرائے جارہے ہیں۔ پاکستانی ریاست کی طرف سے بلوچستان میں‌ایسا کوئی فرد بمشکل ہوگا جو بلواسطہ یا بلاواسطہ ریاستی اذیتوں سے دوچار نہ ہوا ہو۔ روزانہ بلوچستان میں بلوچ سیاسی کارکنان خفیہ اداروں‌کے ہاتھوں اغواء، اور خفیہ ٹارچرسیلوں میں‌ان پر بہیمانہ تشدد، خواتین اور بچوں‌پر فائرنگ وحشت اور بربریت کا کھلااظہار ہے۔ ہزاروں کی تعداد میں اغواء شدہ سیاسی و سماجی کارکن، عام بلوچ، چرواہے اور مزدور لاپتہ کیے گئے۔ عدلیہ کے “ازخودنوٹسز“ بے اثر و عدلیہ بے بس ہے۔ کیا اس سے بڑھ کر کوئی ٹارچر ہوگا؟

خفیہ ایجنسیوں‌کے ہاتھوں لاپتہ ہزاروں‌بلوچ سیاسی کارکنان کے اہل خانہ کوئٹہ، کراچی پریس کلب اور اسلام آباد کی شاہراہوں پر اپنے پیاروں‌کی بازیابی کے لئے صدائے احتجاج بلند کرتی نظر آتے ہیں یہ اہل خانہ کس کرب سے گزرتے ہیں‌اس کا اندازہ لگانا چنداں مشکل نہیں‌ہے۔ ریاستی بربریت اور نازی کیمپوں کی روایت کو بیان کرتے چلیں۔ گذشتہ چند مہینے سے بی۔ ایس۔ او۔ آزاد کے مرکزی رہنما شفیع بلوچ کو خفیہ ایجنسیوں‌اور ایف سی اہلکاروں‌نے اغواء کرکے شدید ذہنی اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا۔ جب وہ بازیاب ہوا تو انہوں‌نے انکشاف کیا کہ ٹارچر کے دوران ایک باریش سیکورٹی اہلکار نے ان کی پیشانی پر “بلوچ“ لکھ کر اس پر پیشاپ کردیا۔ اس سے ریاست کی بلوچ دشمنی، اذیت ناکی اور وحشت کا پردہ کھل جاتا ہے۔

`

پاکستانی ریاست کی درندگی اور مذموم رویوں‌کا سفر طویل ہے۔ ایف سی کے درجنوں‌اہلکاروں نے بلوچ نیشنل موومنٹ کے شہید قائد غلام محمد بلوچ کی مند میں واقع رہائش گاہ کا گھیراؤ کرنا معمول بنالیا ہے۔ ان کے اہل خانہ کے مطابق ایف سی کے اہلکاروں‌نے بڑے بڑے سرچ لائٹ کے ذریعے گھر کے اندر روشنی پھینکی اور چلا چلا کر کہا “غلام محمد کو باہر نکالو“۔ یاد رہے کہ بلوچ نیشنل موومنٹ کے صدر غلام محمد بلوچ مرکزی رہنما لالا منیر بلوچ اور بلوچ ریپبلیکن پارٹی کے مرکزی ڈپٹی جنرل سیکریٹری شیر محمد بلوچ کو اپریل 2009 کو خفیہ ایجنسیوں‌نے تربت میں ایک معروف وکیل کے دفتر سے اغواء کرکے اذیت ناک تشدد کے بعد ان کے چہروں کو مسخ کرکے ان کی جسد خاکی کو ویران جگہ پر پھینک دیا۔ اسی طرح بلوچ نیشنل موومنٹ کے مرکزی جوائنٹ سیکریٹری کو ستمبر 2009 میں‌اوتھل سے خفیہ ایجنسیوں‌کی جانب سے اپنے عقوبت خانوں میں شدید ذہنی اور جسمانی اذیتیں دی گئیں اور ان کے جسم پر سگریٹ سے جلانے کے نشانات پائے گئے۔

`

پاکستانی ریاست کے سیکیورٹی اداروں‌کے طلم و ستم کو بیان کیا جائے تو ضخیم کتابیں‌سامنے آسکتی ہیں جس سے ماضی کے سفاک حکمران بھی لرزاٹھیں


بلوچ یونٹی کانفرنس

This speech distribute on June 26 2010, Karachi Press Club, KUJ (Karachi Union of Journalist) and AHRC (Asian Human Right Council) gathering titled “Torture is Crime” against the International torture day.

Leave a comment

Filed under Interviews and Articles, Write-up

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s