’بگٹی آمر کی انا کا شکار ہوئے‘


asma-jahangir

علی سلمان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور

پاکستان میں انسانی حقوق کمیشن کی چیئرپرسن عاصمہ جہانگیر نے کہا ہے کہ نواب اکبر بگٹی کا قتل ایک آمر کی ذاتی پرخاش کا نتیجہ تھا اور اس لیے جنرل مشرف پر ان کے قتل کا مقدمہ چلنا چاہیے۔

نواب اکبر بگٹی کی تیسری برسی کے موقع پر بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے ایک خصوصی بات چیت میں ان کا کہنا تھا کہ اگر اکبر بگٹی کے ورثاء سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کراتے ہیں تو وہ گواہی دیں گی۔

عاصمہ جہانگیر نے نواب اکبر بگٹی کی فوجی آپریشن میں ہلاکت سے چند مہینے پہلے انسانی حقوق کمشن کے ایک وفد کے ہمراہ ڈیرہ بگٹی کا دورہ کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ اس دورے کے دوران انہیں بلوچستان کے ایک ضلعی رابطہ افسر نے واضح الفاظ میں کہا تھا کہ ’حکومت بلوچستان کے تین افراد بالاچ مری، نواب اکبر بگتی اور ان کے پوتے براہمداغ بگتی کو ہلاک کرنا چاہتی ہے اور وہ جب ملے مار دئیے جائیں گے‘۔

انسانی حقوق کمشن کی سربراہ نے کہا کہ انہیں اور بھی کئی شواہد ملے تھے جن سے یہ معلوم ہوتا تھا کہ تھا کہ ’فوجی حکومت انہیں مارنا چاہتی ہے اور ان تین میں دو یعنی نواب اکبر بگتی اور بالاچ مری کو انہوں نے مار بھی دیا‘۔ انہوں نے کہا کہ بالاچ مری تو فوج مخالف تھے ہی لیکن نواب اکبر بگٹی سے پرویز مشرف کو یہ شکوہ تھا کہ وہ مری کے مقابلے میں ان کا ساتھ کیوں نہیں دے رہے؟

پرویز مشرف کے دورہ بلوچستان کے دوران میں ان پر راکٹ حملہ کیا گیا تھا جس کے بارے میں اتنظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ حملہ مری قبیلے نے کیا تھا۔عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ ’اسٹیبلشمنٹ کا خیال تھا کہ نواب اکبر بگٹی مری قبیلے کے خلاف ان کی مدد کریں گے، لیکن جب انہوں نے انکار کیا تو وہ ان کے خلاف ہوگئے۔ پھر پی پی ایل پر لڑائی اور شازیہ مری سے زیادتی کے واقعات سامنے آئے جس نے کشیدگی میں اضافہ کیا‘۔

انہوں نے کہا کہ ’پھر آمر کی ایک انا بھی ہوتی ہے وہ ایک گستاخ کو سزا دینا چاہتا تھا اور اس نے یہ کر دیا‘۔ انہوں نے کہا کہ نواب اکبر بگٹی کے ورثاء کے پاس وسائل موجود ہیں، وہ مہنگے سے مہنگا وکیل کرسکتے ہیں ان کی اپنی سیاسی جماعت ہے کہ وہ اگر قتل کا مقدمہ درج کرانا چاہیں تو وہ ایسا کرسکتےہیں اور انہیں کرنا بھی چاہیے۔

نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت سے چند مہینے پہلے ان سے ملاقات کا احوال سناتے ہوئے عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ جب وہ ان کے پاس گئیں تو انہیں ان کے ساتھیوں کے پاس نہ تو جدید اسلحہ نظر آیا نہ نئی گاڑیاں تھیں، وہ بے حد ضعیف ہوچکے تھے ایک ٹانگ میں بھی کچہ ضعف تھا اور چونکہ وہ لمبے چوڑے تھے اس لیے پانچ چھ افراد سہارا دیکر انہیں کھڑا کرتے تھے۔

عاصمہ جہانگیر کے بقول ’انہیں مارنا کوئی ایسا مشکل کام نہیں تھا لیکن یہ فوج کی ایک بڑی غلطی تھی کیونکہ وہ واحد ایسے بڑے لیڈر تھے جو پاکستان کے حق میں بات کرتے تھے‘۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں بہت سے قوم پرست لیڈروں کو مار دیا ہے اور اب صورتحال یہ ہے کہ بلوچستان میں کوئی ایسے پانچ چھ لیڈر نہیں ہیں جن سے بات کرکے سیاسی طور پر بلوچستان کے مسئلے کا حل نکالا جاسکے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملٹرائزیشن کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ چھوٹے چھوٹے کئی گروپ بن گئے ہیں،بہت سی تنظیمیں ہیں اور کئی ایسے بلوچ نوجوانوں نے ہتھیار اٹھا لیے ہیں اور لیڈر بن گئے ہیں جن کا نہ تو کوئی ریکارڈ ہے اور نہ ہی اسلام آباد میں کوئی ان کے نام تک جانتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ حالیہ عام انتخابات کا بلوچستان کی قوم پرست قوتوں نے بائیکاٹ کردیا تھا اور پارلیمان میں بھی ان کی صحیح نمائندگی نہیں ہے۔ عاصمہ جہانگیر نے مشورہ دیا کہ بلوچستان میں میں مڈٹرم صوبائی الیکشن کروا دیے جائیں تاکہ ایسے لوگ سامنے آسکیں جن سے بات چیت کا آغاز ہو اور سیاسی مفاہمت کی طرف بڑھا جاسکے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ گذشتہ تین مہینوں سے ایک بار پھر بلوچستان میں لوگوں کو لاپتہ کرنے اور اغواء کرنے کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے اور انسانی حقوق کمیشن کو روزانہ ایسی ٹیلی فون کالیں موصول ہو رہی ہیں جن میں لوگوں کو لاپتہ کرنے کی شکایت کی جاتی ہے۔

Source: BBC Urdu

Leave a comment

Filed under News

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s