بلوچ مزاحمت کار اور بے بس پولیس


Baloch Sarmachar

Baloch Sarmachar

نثار کھوکھر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، حیدرآباد سندھ

بلوچ مزاحمت کاروں نے ان تین پولیس اہلکاروں کی لاشیں مقامی پولیس کے حوالے کردی ہیں جو ایک پولیس مقابلے کے دوران چار دن قبل ہلاک ہوگئے تھے۔ جبکہ ایک پولیس اہلکار کی لاش ابھی تک واپس نہیں کی گئی۔

`

نصیرآباد پولیس کو حالیہ دنوں بلوچ مزاحمت کاروں کے ہاتھوں بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ پولیس کے پندرہ اہلکار ان گیارہ مزدوروں سمیت پانچ دنوں سے یرغمال بنے ہوئے جنہیں ریت لوڈ کرتے وقت اغوا کیا گیا تھا۔مزدوروں اور پولیس اہلکاروں کے اغوا کی ذمہ داری بلوچ ریپبلکن آرمی نامی مسلح تنظیم نے قبول کی ہے۔

`

بلوچستان کے سبی ڈویژن کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل شارق جمال نے مقامی صحافیوں سے بات چیت میں کہا ہے کہ وہ اپنی رپورٹوں میں بلوچ مزاحمت کاروں کے خلاف آپریشن کا لفظ استعمال نہ کریں۔ مقامی صحافی سارنگ مستوئی کےبقول ڈی آئی جی نے ان کو بتایا ہے کہ آپریشن بڑا خطرناک لفظ ہے اس کے استعمال سے گریز کریں مگر ان کے پاس یرغمالیوں کی بازیابی کے لیے کئی دیگر آپشن موجود ہیں۔

`

بلوچستان پولیس کے ایک سینیئر افسر کا کہنا ہے کہ ان کےمحکمے کے پاس بلوچ مزاحمت کاروں کا مقابلہ کرنے کی سکت نہیں ہے اس لیے انہوں نے آپریشن سے زیادہ زور اغواکاروں سے مذاکرات پر دیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ تین پولیس اہلکاروں کی میتیں ان مذاکرات کے نتیجے میں چار دن بعد واپس ملی ہیں ورنہ وہ امید کھو چکے تھے۔

`

نصیرآباد کے علاقے سے اپنی نوعیت کی اغوا کی یہ بڑی کارروائی سمجھی جا رہی ہے۔ ایک سیکورٹی اہلکار کا کہنا تھا کہ انہیں حیرت ہے کہ نصیرآباد جیسے سیٹلڈ علاقے تک بلوچ مزاحمت کار پہنچ چکے ہیں، حالانکہ گزشتہ چار برسوں کے آپریشن کے بعد ان کا خیال تھا کہ انہوں نے مزاحمت کاروں کو پہاڑی چوٹیوں تک محدود کر رکھا ہے۔

`

نصیرآباد اجتماعی اغواء کے پس منظر سے واقف پولیس اہلکاروں کا کہنا ہے کہ بلوچ مزاحمت کاروں کا ابتدائی ہدف ٹریکٹر ٹرالیوں میں ریت بھرنے والے وہ مزدور تھے جو مزاحمت کاروں کی منع کرنے کے باوجود ریت بھر رہے تھے اور ان کے درمیان پیسوں کا کوئی معاملہ ادھورا تھا۔

`

افغان طالبان کے کسی لشکر کی طرح ایک درجن موٹر سائیکلوں پر سوار بلوچ مزاحمت کاروں نے پانچ میں سے تین ٹریکٹرز کو نذر آتش کردیا جبکہ دو ٹرالیوں میں گیارہ مزدوروں کو بھر کر پہاڑوں میں اپنی منزل کی طرف روانہ ہوگئے۔

`

مقامی پولیس نے جب ان کے ٹھکانوں تک ان کا پیچھا کیا تو ایک عینی شاہد پولیس افسر کے بقول بلوچ اغواکاروں نے ہوائی فائر کیے تاکہ پولیس واپس چلی جائے مگر جب پولیس نے جوابی فائرنگ کی تو انہوں نے فائر کھول دیئے۔ پولیس افسر کے بقول ان کے چار ساتھی جاں بحق ہوگئے تو افسران نے واپسی کا رخ کیا مگر بلوچ مزاحمت کار پہاڑوں سے اتر چکے تھے اور انہوں نے ہاتھوں سے پکڑ کر پندرہ اہلکاروں کو ٹرالیوں سے اتارا۔

`

بلوچستان پولیس کے اعلیٰ افسروں کے مطابق یرغمالی پولیس اہلکاروں اور مزدوروں کو چھتر کے ان علاقوں میں رکھا گیا ہے جہاں بلوچ مزاحمت کاروں کے کم از کم تین کیمپ قائم ہیں اور ہرایک کیمپ میں ان کے ستر سے اسی جنگجو رہائش پذیر ہیں۔ ان کے پاس جدید اسلحہ اور پہاڑی مورچے ہونے کی وجہ سے پولیس نے تاحال ان کے خلاف آپریشن شروع نہیں کیا ہے۔ ایک سینیئر پولیس اہلکار کے مطابق مزاحمت کاروں کی ان کیمپس تک پہنچنے کے لیے ہیلی کاپٹر کا ہونا ضروری ہے جو نصیرآباد پولیس کے پاس نہیں ہے۔

`

دوسری جانب سبی کے ڈپٹی انسپکٹر پولیس شارق جمال کا کہنا ہے کہ انہوں نے یرغمالیوں کی بازیابی کے لیے ایف سی کی مدد طلب کی ہے مگر چار روز گزرنے کے بعد ان کے پا س وہ مدد نہیں پہنچ سکی ہے۔

`

مقامی پولیس اہلکاروں میں یہ احساس شدید ہوتا جا رہا ہے کہ شورش زدہ علاقوں میں سیکورٹی اہلکار انہیں تیسرے درجے کا شہری سمجھتے ہیں۔ ان کی مدد کے لیے ایف سی، رینجرز یافوج کے چاق و چوبند دستے تیزی سے متحرک نہیں ہوتے۔

`

نصیرآباد کے ان علاقوں سے پندرہ جولائی کو ایف سی واپس طلب کرلی گئی تھی۔ مقامی پولیس کے افسران کا کہنا ہے کہ وہ دو طرفہ جنگ لڑ رہے ہیں، ایک طرف بلوچ مزاحمت کاروں سے اور دوسری طرف اپنی سیکورٹی ایجنسیوں سے اختیارات، اسلحے اور فنڈز کی جنگ۔ ایک پولیس اہلکار کا کہنا تھا کہ اگر فوج یا ایف سی کے پندرہ اہلکار یرغمال ہوتے تو کیا وہ آپریشن میں اتنی دیر لگاتی؟

`

بلوچستان میں غیر مساوی اختیارات کی وجہ سے مقامی پولیس نے اغواکاروں سے بات چیت کرنے کی حکمت عملی پر کام شروع کیا ہے اور انہیں امید ہے کہ بلوچ مزاحمت کار ان یرغمالی پولیس اہلکاروں کو رہا کردیں گے جو ان کا ابتدائی حدف نہیں تھے۔

`

بلوچستان میں کام کرنے والے بعض وفاقی ایجنسیوں کے اہلکاروں کو خدشہ ہے کہ اغوا کی کارروائی پاکستان کے یوم آزادی چودہ اگست کی نسبت سے کی گئی ہے مگر ان کے جواب میں مقامی پولیس نے رپورٹ دی ہے کہ تمام مغوی مزدوروں میں سے کوئی ایک بھی پنجابی نہیں ہے اور سب کے سب کھوسہ اور مغیری قبیلے کے مقامی باشندے ہیں۔

`

بلوچستان پولیس نے مقامی بااثر افراد کی مدد سے یرغمالی اہلکاروں اور مزدورں کی بازیابی کی کوششیں تیز کردی ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ چند روز میں ان کی کوششوں کو کامیابی حاصل ہوگی۔

`

دوسری جانب بلوچ مزاحمت کاروں نے اپنے مطالبے کی مدت پوری ہونےکے بعد اس دھمکی پر تاحال عمل درآمد نہیں کیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ بلوچستان کی جیلوں میں قید تمام بلوچوں کو اگر دو دن کے اندر رہا نہ کیا گیا تو وہ مغوی پولیس اہلکاروں اور مزدوروں کو قتل کرنا شروع کردیں گے۔

`

Source: BBC Urdu

Leave a comment

Filed under News

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s