سیلاب تربت: دو سال بعد بھی متاثرین کیمپوں‌میں‌مقیم ہیں


PICTURES: Balochistan Devastating Disaster, June 26, 2007


تربت: پناہ گزینوں کے نامساعد حالات

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقے تربت میں دو سال پہلے بارشوں اور سیلاب کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے متاثرین کی ایک بڑی تعداد آج بھی شدید گرمی میں عارضی کیمپوں میں مقیم ہے اور نامساعد حالات میں زندگی بسر کررہی ہے۔
بے گھر ہونے والے لگ بھگ پانچ ہزار لوگوں کو مختلف مقامات پر کیمپوں میں رکھا گیا تھا۔ ان میں سے کئی کیمپ آج بھی آباد ہیں۔ کچھ کھلے میدانوں میں تو کوئی شہر کے واحد فٹبال اسٹیڈیم میں۔
یہ بستیاں ویسے تو عارضی طور پر قائم ہوئی تھیں لیکن دو سالوں سے بدستور قائم رہنے کی وجہ سے اب لوگوں نے انہیں مختلف نام دے دیے ہیں۔
ایک کیمپ ایسا بھی ہے جسے اب ’خدا کی بستی‘ کہا جاتا ہے۔
میں جب خدا کی بستی پہنچا تو وہاں ساٹھ ستر کے قریب پھٹے پرانے خیمے نظر آئے۔ کچھ لوگوں نے کوششیں کرکے اپنے لئے جھونپڑیاں بنالی ہیں لیکن ان پر بھی بوسیدگی نے ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں۔
درجہ حرارت باون ڈگری سینٹی گریڈ تھا جس میں میں خود جھلسا جارہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ اتنی حدت میں کھلے آسمان کے نیچے یہ لوگ کیسے رہتے ہیں۔

ایک کیمپ میں ٹیپ ریکارڈر پر فل والیم میں بلوچی گیت بج رہا تھا اور اسکی آواز پوری بستی میں گونج رہی تھی۔ اسے سن کر ایک لمحے کے لئے یہ احساس ہوا کہ ان لوگوں نے حالات اور موسم کی سختیوں کے ساتھ جینا سیکھ لیا ہے۔
خدا کی بستی میں مقیم مشتاق احمد سے بات ہوئی تو ان کا پہلا شکوہ یہی تھا کہ انہیں اب تک اپنے نقصانات کا معاوضہ نہیں ملا ہے۔
’انہوں (سرکاری حکام) نے کہا تھا کہ آپ کا جتنا بھی نقصان ہوا گھر میں۔ جیسے بھیڑ بکریاں، گھر، چار دیواری یا کھیت اور پھلوں کے باغات وغیرہ تو ان کے پیسے دیے جائیں گے لیکن اسکے بعد کچھ نہیں دیا ہے اب تک۔ جب کبھی ہم بستی والے اکٹھے ہوکر جاتے ہیں تو وہ لوگ دفتروں میں نہیں ہوتے اگر ہوتے ہیں تو کوئی اندر گھسنے نہیں دیتا۔ کبھی کبھار اگر وہ مل جائیں تو کہتے ہیں کہ پیسے دیں گے لیکن دیتے نہیں ہیں۔‘
پچیس سالہ گل پری اپنے بچے کو گود میں لئے بیٹھی تھیں۔ ان کے شوہر پولیس میں ملازمت کرتے ہیں۔ انہیں کیمپ کی زندگی کی مشکلات کے باوجود سیلاب میں بہہ جانے والی بستی میں واپس جانے سے خوف آتا ہے۔
‘یہاں گاڑی (ٹرانسپورٹ) نہیں ہے۔ رستے دور ہیں۔ ہمیں شہر تک پیدل سفر کرنا پڑتا ہے جس سے ہم تھک جاتے ہیں۔ چھ مہینوں تک یہاں پانی نہیں تھا۔ پھر ہم نے ہڑتال کیا تو پانی آیا۔ چھ مہینے تک میں نے پانی وہاں سے لیکر آیا فارم سے۔‘
گل پری نے کہا کہ سیلاب کے نتیجے میں ان کا خاندان قلاش ہوچکا ہے اور وہ اب خدا کی بستی کو نہیں چھوڑ سکتے۔
’سرکار ہمیں جگہ دے یہاں۔ اگر جگہ نہیں دے گا تو ہم کو پیسہ دے تاکہ ہم دوسرا گھر بنائے۔ (جہاں ہم پہلے رہتے تھے وہاں) دو بار پانی (سیلاب) آیا ہمارا گھر گرگیا۔ مال مویشی پیسہ ویسا سب بہہ گیا۔ہم وہاں اب نہیں رہ سکتے ہیں۔ ہم یہیں رہیں گے اور وہاں واپس نہیں جائیں گے۔‘
پچیس سالہ امیر بخش کے دو بھائی پاکستان فوج میں سپاہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں بعض لوگ دھمکیاں دے رہے ہیں کہ وہ بستی سے نکل جائیں ورنہ انہیں زبردستی اٹھادیا جائے گا۔ ان کے بقول پچاس کے قریب خاندان ان دھمکیوں کی وجہ سے دوسری جگہوں پر منتقل ہوگئے ہیں۔
’بڑے لوگ دھمکیاں دیتے ہیں کہ زمین خالی کرو ہمارا زمین ہے۔ کبھی بجلی کاٹ دیتے ہیں کبھی پانی کاٹ دیتے ہیں۔ یہ ہمارا زمین ہے نکل جاؤ! ایسا بولتے ہیں۔ کسی کا وس (بس) چلتا ہے ہمارا وس (بس) تو نہیں چلتا اس پر۔‘

خدا کی بستی کی ایک اور رہائشی ستر سالہ گل بی بی نے بتایا کہ سیلاب کے نتیجے میں ان کے گھر کی چھت گرنے کے باعث ان کے شوہر کی ٹانگ ٹوٹ گئی تھی اور پیسے نہ ہونے کی وجہ سے وہ پوری طرح ان کا علاج بھی نہیں کراسکی ہیں۔
‘میں ایک غریب اور لاچار عورت ہوں اور میرا شوہر اپاہج ہیں۔ گھر اس کے اوپر گرگیا تھا۔ حکومت ہم پر رحم کرے، ہمارے ساتھ انصاف کرے اور ہماری مدد کرے۔ میں غریب ہوں میرے پاس گھر نہیں ہے بس یہ خیمہ ہے۔ حکومت ہماری مدد کرے ہمیں زمین دے دے اپنے خدا اور قرآن کے واسطے۔‘
دو سال کا لمبا عرصہ گزرجانے کے باوجود حکومت ان متاثرین کی امداد اور بحالی کیوں نہیں کرسکی ہے۔ اس بارے میں ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن افسر علی اکبر بلوچ سے بات ہوئی تو انہوں نے اس کا یہ عذر پیش کیا کہ ضلعی حکومت کے پاس فنڈز کی قلت ہے۔
’ہمیں فنڈز صوبائی اور وفاقی حکومت سے ملتے ہیں۔ (سیلاب کے بعد) جتنے ملے تھے پندرہ پندرہ ہزار روپے فی خاندان امداد کے طور پر انہیں اسی وقت مل گئے تھے۔ اب رہ جاتا ہے ان کے لئے گھروں کی تعمیر کا معاملہ۔ تو اس کے لئے زمین ہم نے الاٹ کی تھی لیکن اس پر کسی نے عدالت میں جاکر ملکیت کا دعوٰی دائر کیا جس پر سیشن کورٹ نے حکم امتناعی دیدیا اب ہم نے بورڈ آف ریوینیو کے ذریعے اس کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل داخل کررکھی ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ہمارے حق میں فیصلہ آتے ہی انہیں وہاں بسادیا جائے گا۔‘
تحصیل تربت کی یونین کونسل کوش قلات سیلاب سے سب سے زیادہ متاثر ہوئی تھی۔ وہاں آج بھی درجنوں کچے مکانات کے ملبے پڑے ہیں۔
علاقے کے ایک مکین عبدالمجید نے بتایا کہ سیلاب زدگان اپنے جائز مطالبات کے لئے پچھلے دو سالوں سے احتجاج کرتے آرہے ہیں لیکن شنوائی نہیں ہوئی۔
’ہم لوگوں نے ایکشن کمیٹی بنائی ہے۔ سرکار کے خلاف ہر طرح کا احتجاج بھی کیا ہے۔ پہیہ جام، شٹر ڈاؤن ہڑتالیں اور بھوک ہڑتال بھی کی ہیں۔ ہم نے کوئٹہ جاکر بھی بھوک ہڑتالی کیمپ لگایا تھا لیکن سرکار نے ابھی تک نوٹس نہیں لیا ہے۔ پتہ نہیں ہم یہاں کے شہری نہیں ہیں؟ اگر ہم پاکستان کے شہری ہیں تو ہمارا حق دیدیں۔ جب تک ہمیں ہمارا حق نہیں ملتا ہم احتجاج کرتے رہیں گے۔‘
گلاب احمد گورنمینٹ ڈگری کالج تربت میں لیکچرر ہیں۔ ان کا گھر بھی سیلاب میں بہہ گیا تھا۔ عبدالمجید سے بات چیت کے دوران ہی انہوں نے ایک اور بات کی۔ ‘سیلاب کے بعد حکومت نے فوری طور پر فی خاندان جو پندرہ پندرہ ہزار روپے کا اعلان کیا تھا وہ بھی اکثر خاندانوں کو نہیں ملے۔ اس کے بعد ایف سی نے یہاں باقاعدہ سروے کیا اور اس کے بعد کوپن تقسیم ہوئے تھے جن میں ہر خاندان کے نقصانات کی تفصیل درج تھی۔ آج بھی ٹوکن ہمارے جیبوں میں پڑے ہیں اور کوئی معاوضہ نہیں ملا ہے۔‘
ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن آفیسر علی اکبر بلوچ بھی یہ تسلیم کرتے ہیں کہ دو سال کا عرصہ بیت جانے کے باوجود سیلاب زدگان کو ان کے نقصانات کا معاوضہ نہیں مل سکا لیکن ان کا کہنا ہے کہ اس معاملے کا تعلق وفاقی حکومت سے ہے۔
’اس مسئلے پر صوبائی حکومت کی وفاقی حکومت کے ساتھ بات چیت چل رہی ہے۔ ہمارے چیف سیکریٹری صاحب اس میں بڑی دلچسپی لے رہے ہیں۔ امید ہے کہ انشاء اللہ جلد ہی وہ پیسے اگر ریلیز ہوجاتے ہیں تو ان کے نقصانات کا ازالہ کردیں گے۔‘
کوش قلات کے علاقے میں کیچ ندی کا بند کا بھی ایک لمبا حصہ سیلاب میں بہہ گیا تھا۔ علاقے کے لوگوں مطالبہ ہے کہ اسے بھی فوری تعمیر کرایا جائے ورنہ آئندہ کوئی سیلاب آیا تو زیادہ تباہی ہوسکتی ہے۔

Leave a comment

Filed under News

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s