Occupied Balochistan: A bullet riddled body which was recovered two weeks ago from Shalkot (Quetta), Balochistan has been identified as that of Shahnawaz Marri.
On 28th May 2012 three bullet riddled bodies were found from Shalkot, capital of Pakistan occupied Balochistan. Two of the bodies were identity was ascertained as that of Mohammad Khan Marri and Mohammad Nabi Marri sons of Baz Khan Marri – both brothers, while the third body was initially identified by the name of Mehran Kiyazai but later his relatives said in rush, confusion and distress they made a mistake and after having a close look they body they realised that it was not the body of their relative Mehran Baloch.
The body was then again shifted to Bolan Medical Complex where it was kept for identification for past two weeks.
On Thursday the family of Shahnawaz Marri was approached by the investigation officer of Hub Police Station via phone and he informed that Shahnawaz’s bullet riddled body has been recovered and was kept at Bolan Medical Complex in Quetta.
On Friday the family members had shifted the body of Shahnawaz to New Kahan, Quetta. He was laid to his final abode in New Kahan ‘’Martyrs Graveyard’’ with full National pride and honour.
It is pertinent to mention that Shahnawaz Marri was abducted by the Pakistani secret agencies on April 4, 2012 from ‘’Daru Hotel’’ situated in the industrial town of Hub. Shahnawaz was resident of Lasbela district in Balochistan.
Last month Shahnawaz’s relatives appeared before the three-member bench headed by Chief Justice of Pakistan during the hearings of missing persons cases in Quetta and recorded their statement.
کوئٹہ ، دو ہفتہ قبل برآمد لاش کی
شناخت شاہنواز مری کے نام سے کر لی گئی
کوئٹہ(پ ر)دو ہفتہ قبل شالکوٹ سے برآمد ہونے والی تیسری مسخ شدہ لاش کی شناخت لا پتہ شاہنواز مری کے نام سے کرلی گئی نیو کاہان کوئٹہ کے شہداء قبرستان میں سپردِخاک کردیا گیا دو ہفتہ قبل ۲۸مئی ۲۰۱۲ کو شالکوٹ کے علاقے سے تین نوجوان کی مسخ شدہ لاشیں برآمد ہوئی تھیں جن سے دو کی شناخت سگے بھائیوں محمد خان مری اور محمد نبی مری پسران باز خان مری کے نام سے کر لی گئی تھی جبکہ تیسرے لاش کی شناخت ابتداء میں مہران کھیازئی کے نام سے ہونے کی اطلاعات موصل ہوئی تھیں تاہم بعد میں ان کے رشتہ داروں نے کہا تھا کہ پریشانی کے عالم میں انہوں نے ایک مرتبہ لاش کو دیکھتے ہی یہ سمجھا تھا کہ مذکورہ لاش ان کے لا پتہ رشتہ دار مہران کھیازئی کی ہے مگر بعد میں معلوم ہوا کہ یہ لاش مہران کی نہیں ہے جسے بعد میں شناخت کیلئے بی ایم سی کے سردخانے میں رکھوایا گیا تھا گزشتہ روز حب پولیس تھانہ کے انوسٹی گیشن آفیسر نے لاپتہ شاہنواز مری کے رشتہ داروں کو فون کر کے اطلاع دی کہ لاپتہ شاہنواز مری کی مسخ شدہ لاش بولان میڈیکل ہسپتال میں پڑی ہے جس پر جمعہ کے روزان کے رشتہ داروں نے بولان میڈیکل کمپلیکس ہسپتال میں رکھی گئی لاش کی شناخت لسبیلہ کے رہائشی لاپتہ شاہنواز ولد میر مری کے نام سے کر لی شناخت کے بعد لاش کو بذریعہ ایمبولینس نیوکاہان کوئٹہ منتقل کردیا گیا نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد شہید کی نماز جنازہ ادا کی گئی اور اسے نیوکاہان کوئٹہ کے شہداء قبرستان میں مکمل بلوچ قومی اعزاز کے ساتھ آسودہ خاک کردیا گیا واضح رہے کہ شاہنواز مری کو ۴اپریل ۲۰۱۲ کوداروہوٹل حب سے اغواء کر کے غائب کردیا گیا تھا گزشتہ ماہ چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کی جانب سے کوئٹہ رجسٹری میں لاپتہ افراد کی کیس کی سماعت کے دوران بھی ان کے ورثاء عدالت کے روبرو پیش ہوئے تھے اور انہوں نے اپنا بیان قلمبند کروائے تھے شہید شاہنواز مری کے پر شدید ترین ٹارچر کے نشانات تھے اور انہیں گلہ دبا کر شہید کیا گیا تھا۔
Courtesy: DailyTawar – Translated: BalochJohd

